السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ
علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ ہندہ جو کہ شادی شدہ ہے اس کے باوجود ایک کافر کے ساتھ زنا کیا تو ہندہ کے بارے میں شرع کا کیا حکم ہے
نیز اس کا شوہر اب بھی اس کا رکھنا چاہتا ہے اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے
مکمل دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا
سائل :نور احمد قادری رضوی بارہ بنکی یوپی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب :شرع مطہر میں شادی شدہ اگر زنا کرے تو اس کی سزا سنگسار کیا جانا ہے یعنی اس قدر پتھر مارا جائے کہ وہ مرجائے مگر چونکہ ہندوستان میں اس پر قدرت نہیں ہے کیونکہ یہاں اسلامی حکومت نہیں ہے
ہندہ فاسقہ، فاجرہ، مستحقہ غضب جبار و عذاب نار ہے اس پر اعلانیہ توبہ و استغفار لازمی و ضروری ہے تُوبۃُ السِّرِّ بالسِّرِّ والعَلانِیۃِ بِالعَلانیۃِ
قبولیت توبہ کے لیے صدقات و خیرات کرے مسجد میں لوٹا چٹائی وغیرہ رکھے کیونکہ صدقات و خیرات قبولیت توبہ میں معاون ہوتے ہیں آئندہ ایسی حرکت قبیح و فعل شَنیع سے باز رہے.
زنا سے نکاح کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے اگرچہ زنا بہت بڑا گناہ ہے ہندہ بدستور اپنے شوہر کی بیوی ہے لہذا اس کا شوہر اگر اسے اپنے نکاح میں رکھنے پر راضی ہے تو اسے اختیار ہے مگر اسے چاہیے کہ اپنی عورت کو سخت نگہداشت میں رکھے اور اس کے حقوق کی ادائیگی میں کوئی کسر نہ رکھے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــہ
غلام مرتضیٰ المصباحی
غفر لہ ولوالدیہ ولاساتذتہ ولمن دعا لھم
خادم العلم
دارالعلوم محبوبیہ رموا پور کلاں
اترولہ بلرام پور یوپی انڈیا
٩/شعبان المعظم ١٤٤١ ھ
٤/اپریل ٢٠٢٠ ء