وہ ہم میں سے نہیں ہے

السلام علیکم و رحمت اللہ
میرا سوال ہے کی
جب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کسی فرمائیں
کے وہ ہم میں سے نہیں ہیں
تو اس کلام کا معنی کیا لیا جاتا ہے
یعنی مطلب کیا ہوتا ہے
خوب آسان طریقے سے سمجھا دیں
جزاک اللہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب : جہاں بھی حدیث میں اس طرح کا جملہ ہوتا ہے اس کے دو مفھوم ہوتے ہیں ایک میں حدیث پاک کو صریح مانتے ہوئے حکم کفر عائد ہوتا ہے اور دوسرے میں ماول مانتے ہوئے حکم فسق عائد ہوتا ہے جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مَن غَشَّنَا فَلَیسَ مِنّا” جو ہم کو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے
حدیث مذکور کی علماء نے کئ تاویلات بیان کی ہیں جن میں سے دو یہ ہیں
١ جو مسلمان کسی مسلمان کو دھوکہ دے اور اس کو دھوکہ دینا حلال سمجھے تو ہم میں سے نہیں ہے یعنی مسلمانوں میں سے نہیں ہے
٢ اور اگر حرام کو حرام جانتے ہوئے کیا تو یہ حرام ہے گنہگار ہوگا ایسی صورت میں حدیث کا مفھوم یہ ہے کہ یہ شخص ہماری سیرت کاملہ اور پسندیدہ طریقہ پر نہیں ہے
(المنھاج فی شرح صحیح مسلم بن حجاج
میں ایسا ہی مذکور ہے)
واللہ اعلم بالصواب
غُـلام مُرتَضیٰ المِصـْـبَاحِیْ

غفرلہ ولوالدیہِ ولاساتذتہِ ولمنْ دعا لھم

دارالعلوم محبوبیہ رمواپور کلاں اترولہ بلرام پور یوپی انڈیا

Leave a comment